حیات

حیات (مقالہ ثانی)

زندگی تمامتر حیوی (vital) مظاہر کے ایک جسم میں جمع ہوجانے کا نام ہے۔

زندگی کیا ہے؟ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، حیات کی مختلف انداز میں تعریف کرتے ہیں جو اس مضمون میں مختصرا درج تو کی جائیں گی مگر اصل میں اس مضمون کا متن زندگی کی سائنسی توجیہ یا بالفاظ دیگر یوں کہہ لیں کہ اس کی حیاتیاتی اور طبی نقطہ نظر سے وضاحت تک محدود رہے گا۔

حیاتیات کے نقطہ نظر سے زندگی، تمامتر حیوی (vital) مظاہر کے ایک جسم میں جمع ہوجانے کا نام ہے۔ اور چونکہ تمام جانداروں کی بنیادی اکائی خلیہ ہوتی ہے لہذا یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ تمام افعال جو ایک خلیہ انجام دیتا ہے، مل کر حیات کہلاتے ہیں۔ بات کو مزید گہرائی میں لے جایا جائے تو حیاتی کیمیاء یہ بتاتی ہے کہ تمام خلیات بھی مزید چھوٹے سالمات یا molecules سے مل کر بنتے ہیں جو ایک خاص ترتیب میں آجائیں تو وہ افعال انجام دیتے ہیں کہ جو کوئی اور سالماتی ترتیب (غیرنامیاتی ترتیب) نہیں دے سکتی اور یہی سالمات کا آپس میں مربوط ہونا زندگی ہے۔ پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی بلکہ سالمات کی بنیادی اکائی چونکہ جوہر (atom) ہیں اور جوہر کائنات میں پائے جانے والے مادے کی خالص شکل، عنصر (element)، کا وہ چھوٹے سے چھوٹا ذرہ ہوتا ہے جو گو بنیادی ذرہ تو نہیں ہوتا مگر اس عنصر کے تمام خواص کو اپنے اندر رکھتا ہے جس سے اس کا تعلق ہو اور یہاں جوہر کی منزل پر آ کر اگر ان سائنسی معلومات کے گھوڑوں کو واپس الٹا زندگی کی طرف دوڑایا جائے تو ان جوہروں سے حیات تک کا سفر مختصرا یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ؛ جوہر(یا عناصر) آپس میں ایک خاص ترتیب پاکر سالمات (یا مرکب، بطور خاص نامیاتی مرکب) بناتے ہیں اور پھر یہ سالمات آپس میں مل کر خلیات بناتے ہیں، خلیات ایسے اجسام ہوتے ہیں کہ جو بے شمار پیچیدہ کیمیائی تعملات کو آپس میں منظم طریقے سے چلا سکتے ہیں اور انہی تعملات کا ایک نتیجہ خلیات کے اندر ایک برقی جُہد (electrical potential) کا پیدا ہوجانا ہے، یہ جہد اور دیگر تعملات مل کر خلیے کے اندرونی اور بیرونی ماحول کے درمیان ایک استتباب (homeostasis) کی کیفیت پیدا کرکہ خلیہ کو زندگی بخشتے ہیں اور ثانوی نتیجہ کے طور پر اس جاندار (پودا یا جانور) کو بھی کہ جس کے یہ خلیات ہوں۔

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D8%AD%DB%8C%D8%A7%D8%AA_(%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%84%DB%81_%D8%AB%D8%A7%D9%86%DB%8C)